یہ عقیدہ لئے ہم کہاں چل پڑے
فضاء میں اک روحا نیت سی ہے
ان پرندوں کا کوئ عقیدہ نہیں کیا
تبھی سماں پرسکوں ہے اتنا
ورنہ،
اس جہاں پر تو کالی گھٹائیں ہیں چھائیں
ہر گلی پر خطر ہے اور منزل بھی ہے لا پتہ
سناؤں میں کیا داستاں سیریا کی
وہ گجرات کا منظر اور رازِ نجیب
ہیں سب با خبر ان کے حالات سے
مگر خوابِ غفلت میں ہیں سب پڑے
اس عقیدے نے ہے انکو اندھا کیا
جس عقیدے سے انسانیت تھی جڑی
اس عقیدے کی بنیاد پر ہم
انساں ہوئے قاتل انساں
روحانیت بھی ان سے جاتی رہی
اور کالی گھٹائیں بھی یوں چھا گئیں
کہ ہر لمحہ
ڈر رہتا ہے
نہ جانے کب
پر خطر آندھیاں اور بارشیں
اپنی پر اسرار لہروں میں
ہم سبھی کو سمو لیں
کبھی یہ زمیں جو تھی سونے کی چڑیا
عقیدے تو اس وقت بھی تھے الگ
کوئ ہندو، مسلم کوئ سکھ، عیسائ
مگر وہ بھی آپس میں تھے بھائ بھائ
تھی روحانیت ان کی روحوں میں باقی
تبھی تو وطن بھی یہ جنت نشاں تھا..
سماء آفرین